آئی ایس آئی کا وہ سربراہ جس کے سر کی قیمت روسی ایٹیلیجنس نے اربوں ڈالرز مقرر کی


آئی ایس آئی کا وہ سربراہ جس کے سر کی قیمت روسی ایٹیلیجنس نے اربوں ڈالرز مقرر کی -
پاکستان کی تاریخ میں ایسے گمنام مجاھد بھی موجود ھیں جو کہ ارض پاک کو ایسی ایسی کامیابیاں عطا کرگئے کہ اگر پوری فوج مل کر بھی حاصل کرنا چاھتی تو نہیں کرسکتی تھی ان گمنام ھیروز نے وقت اور حالات کے پیش نظر ایسے فیصلے لیے کہ جس کی وجہ سے جنگ کا پانسہ ھی پلٹا دیا ان گمنام ھیروز سے پاکستان کی تاریخ بھری پڑی ھے جن کا نام سنتے ھی دشمن پر سکتہ طاری ھو جائیا کرتا تھا -
جنرل اختر عبدلرحمن جون 1924 میں پیدا ھوئے جب آپ صرف چار سال کے تھے تب اچانک آپکے والد کا انتقال ھوگیا- انہوں نے مختلف اداروں میں تعلیم حاصل کی اور ۱۹۴۵ میں یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کرلی اور فوج میں کمیشن حاصل کیا تقسیم پاک و ھند کے وقت وہ ایک جونیئر آرٹلری آفیسر تھے تقسیم کے وقت انہوں نے ھندوں اور سکھوں کے مسلمانوں پر کیے ظلم وستم کا قریب سے مشاھدہ کیا تھا اختر عبدلرحمان نے بھارت سے لڑی جانے والی تینوں جنگوں یعنی 48,65 اور 1971 میں بھرپور حصہ لیا 1979 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر پہنچے اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز آف انٹیلیجنس تعینات ھوئے اور اس ادارے کی ازسرنو تشکیل کی اور اسے ایک بین الاقوامی ایجنسی بنا دیا جس دنیا کی بڑی خفیہ ایجنسیوں کے کیے خطرے کی گھنٹی بجا دی سوویت یونین نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان کو بھی یہ ڈر تھا کہ شاید طاقت کے نشے میں چور سوویت فوج پاکستان پر بھی حملہ نہ کردے اس وقت کی پاک آرمی کی قیادت جنرل ضیاالحق نے امریکہ اور سی آئی اے کے پاکستان سے رابطہ کرنے سے پہلے ھی سوویت یونین سے لڑنے کا پلان بنا لیا تھا اور منصوبہ بندی شروع کردی گئی تھی - اسوقت امریکا خود داخلی اور خارجی مسائل میں الجھا ھوا تھا خاص طور پر ایران میں یرغمال بنائے گئے امریکیوں کو نکالنے میں امریکا شدید مسائل کا شکار تھا اسلیے شروع میں امریکا کی طرف سے پاکستان سسے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اس وقت جنرل اختر عبدلرحمن نے خود ھی سوویت آرمی کو افغانستان سے نکالنے کا پلان فائنل کرلیا اور افغان جہادی کیمپ قائم کردیے اور انکی بھرپور مدد کا حکم جاری کردیا امریکا نے اس دوران ویٹ اینڈ واچ کی پالیسی اپنائے رکھی اور کسی بھی قسم کی مدد کی آفر نہیں کی گئی امریکا کا خیال تھا کہ افغانیوں کی طرف سے کچھ دن ھی مزاحمت کی جائے گی اسکے بعد وہ سوویت فوج کے سامنے ھتھیار ڈال دیں گے لیکن جب امریکا نے سوویت افواج کو افغانیوں کے ھاتھوں مار کھاتے اور ذبح ھوتے دیکھا تو فوری پلٹا کھایا اور اپنا خیال بدل لیا امریکا نے جب دیکھا کہ افغان مجاھدین سوویت فوج کو بھگا بھگا کے مار رھے ھیں تو اس نے مدد کے لیے ھاتھ بڑھایا اس وقت کے امریکی صدر ریگن نے فوری طور پہ پاکستان کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کردیا اور جنرل ضیاالحق نے اسے قبول کرلیا افغانستان کو سوویت افواج کا قبرستان بنانے میں آئی ایس آئی اور جنرل اخترعبدلرحمن کا کلیدی کردار تھا جنرل اختر مکمل طور پر افغان جنگ کے انچارج تھے او پوری منصوبہ بندی کرنے اور اس پر عمل کرونے کے ذمیدار تھے اور وھی تمام فوجی اور گوریلا آپریشنز کو ترتیب دینے والے تھے انکی اسی منصوبہ بندی اور ماھرانہ جنگی حکمت عملی نے سوویت افواج کو بےسروسامان حالت میں افغانستان سے بھاگنے پر مجبور کردیا جبکہ جنرل ضیاالحق مکمل طور پر سفارتی محاذ سنبھالے ھوئے تھے آئی ایس آئی کے اس شہہ دماغ نے جس منصوبہ بندی
اور مھارت سے ایک سپر پاور کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی اسے دیکھ کر پوری دنیا سکتے میں آگئی اسوقت جنرل اختر کےجی بی کی ھٹ لسٹ پر تھا روسی خفیہ ایجنسی نے پاکستان کے اس شیر کی سر کی ایک بڑی قیمت رکھی گئی تھی اسکے باوجود اخترعبدالرحمن ھیلی کاپٹر میں افغانستان کے اندر تک چلے جاتے اور وھاں لینڈ کرکے افغان طالبان سے ملتے اور انکا حوصلہ بڑھاتے جبکہ سوویت افواج بھی افغانستان میں موجود تھیں- انکی اس بہادری اور ذھانت کو جرمنی نے اس طرح خراج تحسین پیش کیا کہ دیوار برلن کا ایک حصہ آئی ایس آئی کے لیے مختص کردیا گیا -1988 میں سوویت یونین کا خاتمہ کرنے والا پاکستان کا یہ سپوت بہاولپور طیارہ حادثے میں جنرل ضیالحق کے ساتھ شہید ھوگیا -

انکی شہادت سے ایک سال پہلے ایک پاکستانی ایک امریکی صحافی سے ملا جس کے پاس زخمی اور معذور ھوجانے والے افغان بچوں کی تصاویر کے ساتھ جنرل اختر عبدلرحمان کی تصویریں بھی تھیں پاکستانی کی طرف سے اس امریکی سے تصویریں رکھنے کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے جواب دیا کہ جب وہ دیکھتا ھے کہ وہ زندگی میں ھار رھا ھے یا نیچے کی طرف جارھا ھے تو یہ تصویریں اسے ھمت فراھم کرتی ھیں جنرل اختر کے بارے میں ویسٹرن یا امریکن تجزیہ کار یہ کہتے ھیں کہ یہی ایک شخص تھا جس نے دنیا کی سپرپاور یعنی سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے ایک ایسی فوج جو اس وقت کی سپر پاور تھی -
Tags