پاکستان کے بہادر سپاہیوں کی بہادری کا ایک انمول واقعہ جس کی گواہی دشمن نے دی


ٹک ٹاک نسل کے نام
1999 میں " ٹائیگر ہل "  پر گھُمسان کی لڑائی ہو رہی تھی. انڈین بریگیڈیئر M. P. S کے بقول دو لوگ پاکستانی فوج کو لیڈ کر رہے تھے. ان میں سے ایک میجر اقبال تھے، جو بعد میں پتا چلا کہ SSG کمانڈو تھے اور اُن کے ساتھ دوسرا کیپٹن کرنل شیر خان تھا، جس کا تعلق نادرن لائیٹ انفنٹری سے تھا، یہ باتیں ہمیں بعد میں پتا چلیں ہماری حیرت کی انتہا تو اس وقت نہیں رہی تھی جب ہم نے دیکھا کہ کیپٹن نے " ٹریک سوٹ" پہنا ہوا تھا، جب کہ سردی ہمارا خون جَما رہی تھی. کیپٹن نے ٹائیگر ہل پر 5 پوزیشنیں بنا رکھی تھیں. انڈین بریگیڈیئر کہتا ہے کہ "" وہ فوجیوں کو ایسی زبان میں حکم دیتا تھا کہ " ہمیں ایک لفظ سمجھ نہیں آتا تھا"
مشہور انڈین مصنف " راوت" اپنی کتاب
Kargil, the untold story
میں لکھتی ہیں کہ " کیپٹن کو انڈین آرمی پیچھے دھکیلتی، وہ تھوڑی دیر بعد فوجی جمع کر کے پھر پلٹ آتا. حتّیٰ کہ" کیپٹن نے بازی پلٹ دی تھی کہ انڈین آرمی کی تازہ دم کمک پہنچ گئی"
کیپٹن جھپٹتا، گھیرا تنگ ہونے پر پلٹتا، اور پھر بچے کھچے جوان اکٹھے کر کے جھپٹتا. بریگیڈیئر کہتا ہے کہ
"  میں بھی بریگیڈیئر تھا. کیپٹن کی ادائیں بتا رہی تھیں کہ وہ وآپس نہیں جانا چاہتا. مجھے لگ رہا تھا کہ وہ تھوڑا تھوڑا شرمندگی محسوس کر رہا تھا کیوں کہ اس سے وہ کچھ نہیں ہو پا رھا تھا، جو وہ کر گزرنا چاہتا تھا. اس نے تنِ تنہا ہمیں 3 دفعہ پیچھے دھکیلا. پھر کمک آ گئی. نئے آنے والے " کرپال سنگھ "
نے 10 گز کے فاصلے سے" پورا برسٹ " کیپٹن کے سینے میں اُتار دیا. میں نے خاص طور پر" کیپٹن کی میّت کو آرمی ہیڈ کوارٹر میں لے جانے کی ہدایت کی. وہاں ہمارے فوجیوں نے اس طرح کیپٹن کی میّت کو رکھا کہ وہ باقاعدہ" دیدار " کرنے لگے. میں نے ٹریک سوٹ کی تلاشی لی. تب مجھے پتا چلا کہ وہ صوابی کے ایک چھوٹے سے گاؤں کا ہے. اس کا تعلق نادرن لائیٹ انفنٹری سے ہے. بریگیڈیئر آگے کہتا ہے کہ " میں نے فوجی تاریخ میں بالکل نیا کام کیا، وہ یہ کہ" میں نے اپنے ہاتھ سے رقعہ لکھ کر کیپٹن کے ٹریک سوٹ کی جیب میں ڈال دیا کہ
Give him, what he deserves.
یہ پہلا موقع تھا کہ " دُشمن" اپنے دشمن کے لیٸے " اعزاز"
کی سفارش کر رہا تھا.
Tags