آئی ایس آئی۔۔ بارہ آگست دوہزار بارہ


آئی ایس آئی۔۔  بارہ آگست دوہزار بارہ
رات تین بجے جب میں اور میرے تین دوست " شاہین شکاری ڈیٹ" میں اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ ایک ٹاپ سِکرِٹ سگنل آیا جس میں ایک لمبے قد والے شخص کی  تصویر سمیت مکمل بائیو ڈیٹا  اور چال ڈھال کے بارے میں لکھا تھا کہ یہ شخص اب فرانس سے آرہا ہے جو کابل میں بگرام ائیرپورٹ پر اتر رہا ہے۔ اس کے بعد یہ براستہ طورخم پشاور میں داخل ہوگا۔ پشاور سے بنوں جائے گا اور بنوں سے واپس طورخم کراس کرکے افغانستان میں داخل ہوگا۔
میسج کون بھیج رہا تھا کہاں سے بھیج رہا تھا ہمیں نہیں تھا پتہ۔ صرف اتنا یقین تھا کہ یہ مارخور ہی ہے۔  کیوںکہ جس میڈیم پہ وہ میسج کر رہا تھا وہاں عام شخص کی تو کیا کسی خاص شخص کی بھی رسائی ممکن نہیں ۔
خیر ہم نے وہ سگنل  تمام فارمیشنز کو ارسال کی۔
ایک گھنٹہ بعد پھر سگنل آیا  کہ اب بندہ ائیر پورٹ پہ اتارا ۔ اس کو  رسیو کیا گیا اور تھوڑی دیر تک یہاں سے نکل رہا ہے۔
ہم نے دوبارہ وہ سگنل کو ٹیکسٹ میں کنورٹ کرکے ان تمام فارمیشنز کو ارسال کیا
پھر کچھ دیر بعد میسج  آیا کہ اس کے پاس کالا بیگ ہے شلوار قمیض پہنی ہے ، براؤن مفلر لگایا ہے اور گاڑی کے تیسرے سیٹ پہ دوسرے نمبر پہ بیٹھا ہے۔ 
ہم نے پھر مسج کو فارورڈ کردیا
پھر کچھ دیر بعد پیغام آیا کہ بندہ جلال آباد میں اترا ریسٹورانٹ  سے چائی لی، اس کے بعد واشروم گیا وہاں کپڑے بدلی کیے۔ کوٹ بدلا 
 مفلر پھینک دیا۔ چادر لگائی اب اس کی آنکھیں گرین ہیں اور داڑھی بھی کم کردی ہے اس نے۔ لہذا اب ٹیکسی میں پیچھے سیٹ پہ موجود ہے بندے کا خیال رکھئے۔
ہم نے پھر مسج کو آگے کردیا
دن کے گیارہ بجے پھر پیغام آیا کہ 
کہ اب بندہ باسول اور مارکو کے درمیاں ٹیکسی سے اترا
 ایک شخص کے گھر جارہا ہے۔۔۔

غرض یہ کہ اس شخص کی ہمیں ہر ہر قدم کی خبر تھی 
کب وہ کس نمبر والی اور کس رنگ کی گاڑی میں بیٹھتا ہے، کپڑے کونسے ہیں۔ کس سیٹ پہ بیٹھتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اور ساتھ ایک تصویر بھی اسکی آتی رہی۔
خیر پھر ایک پیغام ملا کہ بندہ طورخم بارڈر پہ موجود ہے جو کہ کراس کر رہا ہے اس کے پاس کچھ انگور کے تھیلے بھی ہیں
سفید شلوار قمیض پہنی ہے سفید چادر اور لال بنیان پہنی  ہے جب کہ بندہ کلین شیو  اور پشاوری چپل پہن چکا ہے۔ ہم نے میسج فارڈور کردیا
ٹھیک ڈیڑھ گھنٹہ بعد پھر مسج آیا کہ بندہ  وہ فلاں نمبر  سفید رنگ کی ٹوڈی کار میں بیٹھا ہوا ہے 
دوسرے سیٹ کے درمیان پہ۔ ان کے پاس کچھ انگور ہیں جو کے ٹرنک  میں  پڑے ہیں لہذا وہ انگور کو اٹھائے گا نہیں بس سیدھا نکل جائے گا اس کو کچھ لوگ اگلی سٹاپ پہ ریسیو کر رہے ہیں۔ ان کی ملاقات ہونے والی ہے۔
ہم نے مسج فارورڈ کیا تو جواب آیا  کہ اپ لوگ نظر رکھئے
 ملاقات ہونی چاہئے۔
آدھا گھنٹہ بعد مسج آیا کہ بندہ پشاور کا پھاٹک کراس کر رہا ہے اس کے پاس تین بندے اور بھی ہیں
پھر میسج آیا کہ ان تینوں کو پولیس نے روک لیا اور گاڑی میں بٹھا کر لے گئے
تھوڑی دیر بعد پھر میسج آیا کہ بندے کو پولیس نے پشاور کینٹ  میں سروے بٹالین کو دیدیا یا نہیں آپ تصدیق کرکے بتادیں
ہم نے فارمیشن سے معلومات کی تو پتہ چلا کہ ان کو ہیلی کاپٹر میں ڈال کر کسی نا معلوم مقام پر لے کر جاچکے ہیں
اور پھر اس سے آخری گفتگو ہوئی کہ
کھانا ملا؟
جی، ملا 
راجر
آوٹ
مجھے اب تک نہیں پتہ یہ شخص کون تھا۔ کیسے اسکی ہر پل کی خبر دیا کرتا تھا اور فرانس سے لے کر پشاور تک یہ فالو کیسے کررہا تھا۔ کچھ لوگ واقعی جنات ہوتے ہیں۔ کون ہیں ؟؟ کیا ہیں ؟؟ کیسے ہیں؟؟ کہاں ہیں؟؟ کس کو نہیں پتہ ہوتا۔ مگر وہ ہوتے ہیں اور ہر جگہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ آئی ایس آئی ہوتے ہیں۔
ہمیں فخر ہے ہمارے تمام گمنام ہیروز پر وہ جہاں کہیں بھی ہوں
اللہ پاک ہمیشہ ان سب پر اپنا سایا رکھے
آمین ثم آمین
دعاؤں میں یاد رکھئے

لب یو 💕آئی ایس آئی 

پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد
Tags