جو کام انڈین اپنی فلموں میں دکھاتے ہیں ۔ ہمارے فوجی وہ کام روزانہ حقیقت میں کرتے ہیں۔
شہید ارسلان ستی کا تعلق مری کے علاقے کوٹلی ستیاں سے تھا۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ بھرتی ہوا اور کچھ سال بعد لیفٹیننٹ کے عہدے پر پہنچ گیا
جب 2014 میں فاٹا کے علاقے میں جنرل راحیل کی قیادت میں آپریشن ضرب عزب سٹارٹ ہوا تو ارسلان کو بھی وزیرستان اپنی یونٹ کے ساتھ بھیج دیا گیا
آپریشن شروع ہوتے ہی دہشت گردوں کو ہماری فوج بھگا بھگا کر مارتی رہی اور مختلف آپریشنز میں ارسلان بھی شرکت کرتا رہا۔
پھر شوال کے علاقے میں جب فوج اتری تو امریکہ اور دنیا کی تمام فوج نے یہ کہا کہ شوال میں پاک فوج ناکام ہوجائے گی ۔
وہ اس لیے کہ ایک تو شوال دنیا کے تنگ ترین عجیب پہاڑی علاقہ تھا جن میں بےشمار قدرتی لمبی لمبی سرنگیں تھیں جن میں پہاڑوں کے اندر ان دہشتگردوں کے مضبوط ٹھکانے تھے ۔
مگر دنیا بھول گئی تھی اب کے مد مقابل پاک فوج ہے جو ایک بار ٹھان لے پھر واپسی کامیابی کے ساتھ ہوتی ہے چاہے اس کے لئے ہزاروں جوانوں کی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑ جائے۔
شوال کے سارے علاقے کلیئر کرا دیے گئے مگر ایک مین پہاڑی چوٹی جس پر ان دہشتگردوں کا ہیڈکوارٹر بنا تھا اس چوٹی کے اندر ایک سرنگ نما غار تھی اور وہ چوٹی شوال کے تمام راستوں کے اوپر تھی اس چوٹی پر دہشتگردوں کا قبضہ ہونے کی وجہ سے شوال سے آگے جانے کے راستے محدود ہو کر رہ گئے تھے اس چوٹی پر قبضہ کیے بغیر پاک فوج آگے نہی بڑھ سکتی تھی دہشت گرد اونچائی پر ہونے کی وجہ سے نیچے روڈ سے گزرنے والی ہر گاڑی ان کے نشانہ پر تھی
ہیلی کاپٹرز کے زریعے بھی بمباری کرنا ممکن نہ تھا نیچے سے فائرنگ کرنا بھی فضول تھا کیونکہ تربیت یافتہ دہشت گرد غار کے اندر سے فائرنگ کرتے تھے
اور بس ایک ہی راستہ بچا تھا کہ کسی طرح دہشت گردوں کی نظروں سے بچ بچا کر چوٹی پر پہنچا جائے ۔
چوٹی بہت اونچائی پر تھی اور ڈھلان کی صورت میں جس پر چڑھنا ہر بندے کے لئے ممکن نہ تھا۔
جب یہ بات ارسلان کو پتہ چلی تو ارسلان کی آنکھوں میں چیتے جیسی چمک آگئی فوری طور پر اپنی خدمات پیش کر دیں اور کہا اس چوٹی تک پہنچنا میرے لئے بچوں جیسا کھیل ہے کیونکہ ارسلان کا سارا بچپن انہیں پہاڑوں پر اترتے چڑھتے گزرا تھا۔
فوری طور پر ارسلان کو شوال کی اس چوٹی کے پاس پہنچایا جاتا ہے اور دس کمانڈو مزید تیار کیے جاتے ہیں جو ارسلان کی قیادت میں پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر دہشت گردوں کے ساتھ لڑتے ۔
مگر یہ کیا ارسلان باقی دس فوجیوں کو ساتھ لے جانے سے انکار کر دیتا ہے اور یہ مشن اکیلا سرانجام دینے کا اندیہ دیتا ہے کافی بحث ومباحثہ کے بعد آرمی آفیسرز اسے اکیلے جانے کی اجازت دے دیتے ہیں
اس دوران ارسلان لاسٹ وقت اپنی ماں کو کال کرتا ہے اور صورت حال سے آگاہ کرتا ہے کہتا ہے ماں جا رہا ہوں مگر واپس سبز پرچم میں لپیٹ کر آؤں گا
تمہاری اجازت درکار ہے
ماں تو ماں ہوتی ایک دفعہ ماں تڑپ کر رہ گئی مگر آگے وطن عزیز کی بات بیچ میں تھی ماں نے گرجدار آواز میں نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر بیٹے کو اجازت دے دی
اور کہا بیٹا بس ایک شرط پر اجازت دونگی اگر شہید ہونا تیری قسمت میں لکھا ہے تو گولی سینے پر کھانا بزدلوں کی طرح ہار کر واپس مت آنا ورنہ اپنا دودھ نہی بخشوں گی
ارسلان اکیلے یہ آپریشن سرانجام دینے کا عزم لئے اس پہاڑی کے پاس پہنچ جاتا ہے اور چھپتے چھپاتے کئی گھنٹوں کی مشقت کے بعد چوٹی کے بالکل اوپر پہنچ جاتا ہے اور غار کے اندر جانے کا پلان سوچنے لگ جاتا ہے اس وقت سرنگ نما غار کے اندر لگ بھگ 60 سے زیادہ دہشت گرد موجود تھے جو اپنی موت سے بےخبر تھے
بیک وقت ان دہشت گردوں کو مار کر چوٹی کلیئر کروانا ممکن نہ تھا ایسے میں سیدھی فائرنگ سے ارسلان چند ایک کو مار پاتا اور خود بھی شہید ہوجاتا اور مشن ناکام ہوجاتا۔
ان حالات میں ارسلان کے پاس ایک ہی راستہ باقی بچتا ہے کہ کسی طرح پوری سرنگ نما غار کو دھماکا سے اڑا دیا جائے
اور یہ تب ہی ممکن تھا جب ارسلان سینے سے بمب باندھ کر سرنگ نما غار میں اچانک سے گھس کر خود کو بارود سے اڑا دے ارسلان کو اس بات کا علم تھا کی غار کے اندر بہت بڑی تعداد میں اسلحہ گولہ بارود موجود ہے جو وہ بھی ساتھ میں پھٹے گا۔
ارسلان فوری طور پر ساتھ میں لائے بم سینے سے باندھ لیتا ہے اور رات ہونے کا انتظار کرتا ہے اور چوٹی میں ایک ایسی جگہ چھپ جاتا ہے جو سب کی نظر سے اوجھل ہوتی ہے جیسے ہی رات کا گھپ اندھیرا چھا جاتا ہے
تو نیچے پاک فوج کی نگرانی پر مامور دہشت گرد اندر غار میں چلے جاتے ہیں بس ارسلان اسی وقت کے انتظار میں ہوتا ہے
اور غار کے منہ میں پہنچ کر چیتے جیسی پھرتی سے حملہ کر دیتا ہے دہشت گرد اس اچانک موت سے بوکھلا جاتے ہیں ارسلان بجلی کی سی تیزی سے غار کے سینڑ میں پہنچ کر غار کے اندر زخیرہ کیے گولہ بارود کو بم سے اڑا دیتا ہے جیسے ہی غار کے اندر منوں کے حساب سے موجود بارود پھٹتا ہے تو پوری چوٹی کو اڑا کر رکھ دیتا ہے وہاں موجود تمام دہشت گرد مارے جاتے ہیں اور ساتھ میں ارسلان ستی بھی شہید ہوجاتا ہے۔
ارسلان شہید اپنی جان کی قربانی دے کر وہ پہاڑی چوٹی کلیئر کروا دیتا ہے
پاکستانیو خدارا قدر کرو اپنے ان شہیدوں کی آج شوال وزیرستان پاکستان میں جو امن قائم ہوا ہے اس کے پیچھے ہزاروں فوجیوں کا خون ہے
سلام تجھ پر اے وطن کے مجاہدو
ہم اگر زندہ قوم ہیں تو ان فوجیوں کی وجہ سے یہ پاگل سر پھرے فوجی ہمیں امن و امان دینے کے لئے جان تک قربان کرتے ہیں
اور بدلے میں ہم ان کو کیا دیتے ہیں ؟؟
پاکستان زندہ باد
پاک فوج زندہ باد

