آپ لوگوں نے آج پاکستان کا ایف سولہ طیارے کے گرنے کی نیوز سنی ہوگی جس میں ونگ کمانڈر نعمان کی شہادت کی خبر بھی سنی ہوگی
کیا آپ جانتے ہیں طیارہ حادثے کا شکار کیوں ہوا؟؟
کیا آپ جانتے ہیں یہ طیارہ خالی میدان میں ہی کیوں گرا؟؟
یہ طیارہ آبادی پر کیوں نہیں گرا؟؟
کیا آپ جانتے ہیں اس حادثے میں پائلٹ اپنی جان بچا سکتا تھا؟؟
پائلٹ نے اپنی جان کیوں نہی بچائی ؟؟
پائلٹ پیرا شوٹ کے زریعے کودا کیوں نہیں؟؟
نہی جانتے تو میں بتاتا ہوں
میں صدقے اس ماں کے جس نے اسے پیدا کیا
ونگ کمانڈر نعمان نے اپنی جان بچانے کی بجائے اپنی عوام کی جان بچائی
دوران پرواز اچانک سے طیارے سے ایک پرندہ ٹکرا گیا
جس کی وجہ سے طیارے کا توازن بری طرح بگڑ گیا
طیارہ تیزی سے جھولنے لگا طیارے کو زمین پر گرنے میں دس سیکنڈ لگے
یہ دس سیکنڈ ونگ کمانڈر نعمان کی زندگی بچانے کیلئے کافی تھے
مگر اس کے لئے ونگ کمانڈر کو طیارے کو چھوڑ کر اپنا پیرا شوٹ کھولنا پڑتا تب طیارہ بےلگام ہوکر کٹی پتنگ کی طرح آبادی پر گر سکتا تھا اور بہت زیادہ تعداد جانی نقصان کا قوی امکان تھا
جس جگہ طیارہ تھا اس کے نیچے پریڈ گراؤنڈ کا خالی میدان تھا باقی آس پاس آبادی تھی اور وقت صرف دس سیکنڈ
ان دس سیکنڈ میں طیارہ کہیں اور بھی نہی جاسکتا تھا
ایسے میں ونگ کمانڈر نعمان کے پاس دو رستے تھے
پہلا رستہ یہ کہ طیارہ چھوڑ کر اپنی جان بچائی جائے
دوسرا رستہ یہ کہ طیارے کا رخ نیچے خالی میدان میں کرکے آبادی کو بچایا جائے
مگر اس کام کے لئے پائلٹ کا طیارے میں ہونا اشد ضروری تھا اور پائلٹ بھی طیارے کے ساتھ ختم ہوجاتا
ونگ کمانڈر نعمان نے دوسرا راستہ چنا نعمان نے اپنی جان قربان کرتے ہوئے طیارے کا رخ سیدھا خالی میدان کی طرف کر دیا
اپنی جان کی قربانی دے کر بہت ساری جانیں بچا لیں
آفرین آفرین اس قوم کے بیٹے پر
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
سلیوٹ ونگ کمانڈر سر نعمان شھید

