___مشکل وقت میں نیکی کام آتی ھ💛💜 ✒
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
پہلی امت کے تین آدمی کہیں سفر میں جا رہے تھے ۔ رات ہونے پر رات گزارنے کے لیے انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں پناہ لی اور اس میں اندر داخل ہو گئے ۔ اتنے میں پہاڑ سے ایک چٹان لڑھکی اور اس نے غار کا منہ بند کر دیا ۔ سب نے کہا کہ اب اس غار سے تمہیں کوئی چیز نکالنے والی نہیں ، سوا اس کے ، کہ تم سب اپنے سب سے زیادہ اچھے عمل کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ۔*
*اس پر ان میں سے ایک شخص نے اپنی دعا شروع کی کہ :*
*اے اللہ ! میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور میں روزانہ ان سے پہلے گھر میں کسی کو بھی دودھ نہیں پلاتا تھا ، نہ اپنے بال بچوں کو ، اور نہ اپنے غلام وغیرہ کو ۔ ایک دن مجھے ایک چیز کی تلاش میں رات ہوگئی اور جب میں گھر واپس ہوا تو وہ ( میرے ماں باپ ) سو چکے تھے ۔ پھر میں نے ان کے لیے شام کا دودھ نکالا ۔ جب ان کے پاس لایا تو وہ سوئے ہوئے تھے ۔ مجھے یہ بات ہرگز اچھی معلوم نہیں ہوئی کہ ان سے پہلے اپنے بال بچوں یا اپنے کسی غلام کو دودھ پلاؤں ، اس لیے میں ان کے سرہانے کھڑا رہا ۔ دودھ کا پیالہ میرے ہاتھ میں تھا اور میں ان کے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا ۔ یہاں تک کہ صبح ہو گئی ۔ اب میرے ماں باپ جاگے اور انہوں نے اپنا شام کا دودھ اس وقت پیا ،*
*اے اللہ ! اگر میں نے یہ کام محض تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو اس چٹان کی آفت کو ہم سے ہٹا دے ۔ اس دعا کے نتیجہ میں وہ غار تھوڑا سا کھل گیا ۔ مگر نکلنا اب بھی ممکن نہ تھا ۔*
*رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دوسرے نے دعا کی ،*
*اے اللہ ! میرے چچا کی ایک لڑکی تھی ، جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی ، میں نے اس کے ساتھ برا کام کرنا چاہا ، لیکن اس نے نہ مانا ۔ اسی زمانہ میں ایک سال قحط پڑا ، تو وہ میرے پاس آئی میں نے اسے ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیئے کہ وہ خلوت میں مجھے سے برا کام کرائے گی ۔ چنانچہ وہ راضی ہو گئی ۔ اب میں اس پر قابو پا چکا تھا ۔ لیکن اس نے کہا کہ تمہارے لیے میں جائز نہیں کرتی کہ اس مہر کو تم حق کے بغیر توڑو ۔ یہ سن کر میں اپنے برے ارادے سے باز آ گیا اور وہاں سے چلا آیا ۔ حالانکہ وہ مجھے سب سے بڑھ کر محبوب تھی اور میں نے اپنا دیا ہوا سونا بھی واپس نہیں لیا ۔*
*اے اللہ ! اگر یہ کام میں نے صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا ، تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے ۔*
*چنانچہ چٹان ذرا سی اور کھسکی ، لیکن اب بھی اس سے باہر نہیں نکلا جا سکتا تھا ۔*
*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :*
*اور تیسرے شخص نے دعا کی ،*
*اے اللہ ! میں نے چند مزدور کئے تھے ۔ پھر سب کو ان کی مزدوری پوری دے دی ، مگر ایک مزدور ایسا نکلا کہ وہ اپنی مزدوری ہی چھوڑ گیا ۔ میں نے اس کی مزدوری کو کاروبار میں لگا دیا اور بہت کچھ نفع حاصل ہوگیا .*
*پھر کچھ دنوں کے بعد وہی مزدور میرے پاس آیا اور کہنے لگا :*
*اللہ کے بندے ! مجھے میری مزدوری دیدے .*
*میں نے کہا :*
*یہ جو کچھ تو دیکھ رہا ہے ، اونٹ ، گائے ، بکری اور غلام ، یہ سب تمہاری مزدوری ہی ہے ۔*
*وہ کہنے لگا :*
*اللہ کے بندے ! مجھ سے مذاق نہ کر ۔*
*میں نے کہا :*
*میں مذاق نہیں کرتا ۔*
*چنانچہ اس شخص نے سب کچھ لیا اور اپنے ساتھ لے گیا ۔ ایک چیز بھی اس میں سے باقی نہیں چھوڑی ۔ تو اے اللہ ! اگر میں نے یہ سب کچھ تیری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کیا تھا ، تو تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے ۔ چنانچہ وہ چٹان ہٹ گئی اور وہ سب باہر نکل کر چلے گئے ۔*
*صحیح بخاری*
*حدیث # 2272*

