پاکستان کا تیسرا اہم ہتھیار ابابیل بیلسٹک میزائل


ابابیل میزائل ، پہلے بہت بلندی تک پہنچتا ہے اور پھر اپنے نشانے کی طرف بڑھتا ہے
ابابیل میزائل کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں
ایم آئی آر وی
Multiple Independently Targetable Re Entry Vehicle
ٹیکنالوجی کے ذریعے کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ بارہ بم رکھنا ممکن ہے
ایم آئی آر وی ٹیکنالوجی رکھنے والے بیلسٹک میزائل نہایت خطرناک ہیں
دراصل یہ میزائل جب نیچے آتا ہے تو وقفے وقفے سے ایٹم بم چھوڑتا ہے
گرتے ہوئے میزائلوں اور بموں کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ انہیں شناخت کرکے تباہ کرنا مشکل بن جاتا ہے اسی لئے کوئی نہ کوئی بم اپنے ٹارگٹ پر ضرور گر سکتا ہے
پاکستان نے ابابیل میزائل اسی لئے تخلیق کیا  کہ بھارت کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائیل کا فضائی دفاع ناکارہ بنایا جا سکے
جنگ کے دوران اگر پاکستان تین ابابیل بھی داغ دے تو  کم از کم پندرہ ایٹم بم اپنے نشانوں کی طرف بڑھنے لگیں گے
اس بیلسٹک میزائل کو ابابیل کا نام اسی مناسبت سے دیا گیا ہے کہ انہی چھوٹے چھوٹے پرندوں نے خانہ کعبہ کی طرف بڑھتے کافر ابرہہہ کے لشکر کو پتھر مار مار کر تباہ کر دیا تھا
ابابیل 2200 کلومیٹر کی حد مار رکھتا ہے
اس کی حد میں تقریباً پورا انڈیا بھارت اور ہندستان آگیا ہے.
پاکستانی ابابیل کی خصوصیات انتہائی خفیہ رکھی گئی ہیں
 ابابیل شاہین تھری بیلسٹک میزائل سے ملتا جلتا ہے
یاد رہے... 
شاہین تھری 18 ماخ کی رفتار رکھنے والا ہائپر سونک بیلسٹک میزائل ہے.
اگر یہ کہا جاے یہ مزائیل صرف بھارت ہی کے لیے ہے تو درست نہیں کیونکہ پاکستان کا مفاد اس امت سے وابستہ امت کے وجود کو خطرہ درپیش ہوا تو پاکستان کے لیے بھی مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں اس وجہ سے اس مزائیل کے ذریعے باقی دشمنوں کے لیے بھی پیغام موجود ہے 
جو مسلمانوں کا وجود مشرق وسطی سے ختم کرنے کی ناپاک سازش میں مصرف ہیں اسی وجہ اس مزائیل کا نام دوسرے مزائلوں سے مختلف ہے
Tags